ممبئی،25؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) مہاراشٹر کے ممبئی سے لے کر راجستھان، گوا، کرناٹک، آندھرا پردیش اور بہار تک بارش کا قہر جاری ہے۔ مہاراشٹر کے چپلون شہر میں، سڑک سمیت متعدد عمارتیں پانی میں ڈوب گئیں، جبکہ رائے گڈھ میں بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مکانات تباہ ہوگئے۔ اب تک 49 سے زائد لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔اب تک 150سے زائداموات ہوچکی ہیں،جبکہ لاشیں ملبے سے نکالنے کا عمل جاری ہے۔7اضلاع سے تقریباً 8000 لوگوں کو این ڈی ایف کے عملے نے باہرنکالا ہے۔وہیں 200سے زائد اہم علاقوں سے دیگر شہروں کے رابطے منقطع ہوگئے ہیں۔محض پونے ڈیویژن کے 84452 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔
پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی پریس ریلیز کے مطابق ریاست میں سیلاب راحت اور بچاؤ کام کیلیے‘آپریشن ورشا 21’شروع کی ہے۔ اس نے پونے کے متاثرہ علاقوں میں واقع اوندھ آرمی اسٹیشن پونے اور بامبے انجینئر گروپ کے فوجیوں سمیت کل 15راحت اور بچاؤ ٹیم تعینات کیے ہیں۔ اس درمیان محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے ستارا کیلئے ایک نیا‘ریڈ الرٹ’جاری کیاہے جس میں آئندہ 24 گھنٹوں میں اس مغربی ضلع کے پہاڑی‘گھاٹ’علاقوں میں زیادہ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس علاقے میں تودے کھسکنے کے سبب تقریباً 30 افراد لاپتہ ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرناٹک میں موسلا دھار بارش ہوئی۔شمالی کرناٹک کے کئی علاقے سیلاب کی زد میں آگئے ہیں۔3 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ دو لاپتہ ہیں۔ کم سے کم 8 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔ 9000 سے زیادہ افراد کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکال لیا گیا ہے۔ ریاست کے 7اضلاع جنوبی کنڑا،، اڈپی، شمالی کنڑا، شیموگہ، چکمگلور، ہاسن کے دیہی علاقوں میں بارش کیلئے ریڈ الرٹ ہے۔
وہیں راجستھان کے متعدد اضلاع بشمول جھلاور، پالی، جودھپور، کوٹا، باران، سوئی مادھو پور، ٹونک، کوٹا، اودی پور اور جودھ پور میں موسلادھار بارش جاری ہے۔ ضلع باران کے دیہاتوں میں پل کے ڈوبنے کی وجہ سے گاؤں کے لوگ کہیں بھی جانے سے قاصر ہیں۔ بہار کے سہرسہ اورسپول سمیت متعدد اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں۔ آندھراپردیش کے کرشنا نگر ضلع کے کئی دیہات سیلاب سے متاثر ہونے کے ساتھ ہی کرناٹک کے شمالی حصے میں بھی بارش نے تباہی مچا رکھی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی کئی دنوں تک موسلادھاربارش کے امکان ہیں۔اس خبر نے مکینوں میں خو ف ودہشت پیداکردی ہے۔